National Sections of the L5I:

ایران: عوامی بغاوت کے ساتھ یکجہتی

Printer-friendly versionPDF version

ایران: عوامی بغاوت کے ساتھ یکجہتی
ایران میں کئی دنوں سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو مؤثر طریقے سے بند کردیا گیا ہے۔ ہفتے کے آخر میں پیٹرول کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافے کے بعدملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاجات پھیل گئے جس کے بعدموبائل فون، میل اور میسنجر سروسزکو بار ہا منقطع کیا گیا۔ منگل19 نومبر سے بیرونی دنیا کے ساتھ بیشتر داخلی مواصلات اور ''بے قابو'' ہونے والی خبروں کوموثر طور پر روک دیا گیا ہے۔
بائیس نومبر کو انٹرنیٹ کے جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا گیا تھااور انتہائی رجعتی انقلابی گارڈز نے عوامی تحریک پر اپنی فتح کا اعلان کیا۔ حکومت کس حد تک اس میں حقیقی طور پر کامیاب ہوئی ہے یہ دیکھنا باقی ہے، بدامنی کی بنیادی وجوہات جس کی وجہ سے سرکش بغاوت نے جنم لیایقینی طور پر ابھی تک ختم نہیں ہوئیں۔
اس کی وجہ واضح اور آسان ہے۔ ایرانی حکومت نے ایک عوامی تحریک کو روکنے کے لئے ا پنی تمام جابرانہ قوتوں کو اکھٹا کیا ہے جس میں حکومت، اس کے گارڈ، کٹھ پتلیوں، علامتوں اور عمارتوں کے خلاف بغاوت بننے کا خطرہ ہے۔ گرین موومنٹ آف 2009 اور 2017-18 کے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے برعکس جس میں شہری درمیانے طبقے، طلباء اور دانشور مرکزی تھے، حالانکہ انہیں تب بھی مزدور طبقے کی بڑے پیمانے پر حمایت حاصل تھی، اس بار تحریک سب سے زیادہ استحصال کے شکار شعبے کے محنت کش طبقے کو تیزی سے جدوجہد کے میدان میں لایا اور محنت کش طبقہ کی انتہائی کچلا ہوا حصہ اس جدوجہد کے مرکز میں آیا۔
یہ تحریک پورے ملک میں تیزی سے پھیل گئی۔ ہفتے کے آخر تک نہ صرف اسکول اور یونیورسٹیاں بند ہوگئیں بلکہ دکانیں اور فیکٹریاں بھی بند ہوگئیں۔ اس تحریک کے آغاز سے ہفتوں پہلے ہی احتجاجوں اور ہڑتالوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ اجرت کی عدم ادائیگی پر احتجاجات، مثال کے طور پر، ہفت تاپیہ میں گنے کے مزدور،ان مزدوروں کی جدوجہد کی ایک طویل روایت ہے، اور اہواس میں اسٹیل پلانٹس کے محنت کشوں کی جدوجہد۔
تاہم ہفتہ کے اختتام پر 16-17نومبر کویہ احتجاج ایک خود روبغاوت کی شکل اختیار کرگیا، یہ کچلے ہوئے اور غریبوں کا ایک وبال تھا۔ پٹرول اسٹیشن، ٹاؤن ہال اور حتیٰ کہ پولیس اسٹیشن اور ''انقلابی گارڈ''جو ایک نیم فاشسٹ ملیشیا کی عمارتوں پر بھی حملے اورانہیں نذر آتش کیا گیا۔ جنوبی ایران کے شہر شیراز میں مظاہرین نے ایک وقت میں اس شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ عوام کی مایوس معاشی صورتحال اور ایرانی معیشت کے زوال کے پیش نظراس بغاوت نے حکومت کے لیے شدید خطرات کو جنم دیا۔
ردِعمل
حکومت اب اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اگر ضرورت ہو تو اسے خون میں بھی ڈبو سکتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق19 نومبر تک پولیس،انقلابی گارڈ اور اس کے سب ڈویژن اورباسڈش ملیشیا کے ساتھ جھڑپوں میں 106 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مواصلات کو بڑے پیمانے پر منقطع کرنے سے قبل دیگراطلاعات کے مطابق یہ تعداد 200 تک ہے۔
عوامی تحریک کا خوف جس سے حکومت کا خاتمہ ہوسکتا ہے، اس نے اس وقت اسلام پسند حکومت کے ''سخت گیر اور ''اعتدال پسند'' دھڑوں کو متحد کر دیاہے۔ ان سب نے اس بغاوت کی ''توڑ پھوڑ'' یا اسے سامراج کے زیر اہتمام ''دہشت گردوں '' کا کام قراردئے کراس کی مذمت کی ہے۔ تحریک کے کچھ گرفتار رہنماؤں کو ٹی وی پر ''اعتراف'' کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ امریکہ، اسرائیل یا سعودی عرب کی ہدایات پر عمل پراہ تھے۔ واضح طور پر اس طرح کے ''اعترافات'' تاریخ کے کسی اور شو ٹرائل یا ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹس کی طرح ہی معتبر ہیں۔
منگل کے بعد سے، روحانی اور حکومت کے دیگر نمائندوں نے سرکاری کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے دعوی کیا ہے کہ صورتحال ''معمول پر آ گئی'' ہے۔ اس کی حقیقت کچھ بھی ہویہ بات واضح ہے کہ حکومت نے عوام کو شکست دینے کے لئے نہ صرف میڈیا اور پوری ریاست کا نظام بلکہ ملیشیا اور اسلامی جمہوریہ کے اداروں اور مساجد میں اس کی معاون قوتوں کو متحرک کردیا ہے۔ امریکی سامراج کے حقیقی خطرات کے پیش نظراور اس کی معاشی پابندیوں نیز''حکومت میں تبدیلی'' کی کھلی اپیل کی وجہ سے حکومت خود کو ''سامراج مخالف'' کے طور پر پیش کر رہی ہے اور عوامی تحریک کے بارے میں اس کا موقف ہے کہ اس کی قیادت اور رہنمائی امریکی، صہیونی اور سعودی افواج کے ذریعہ کی جارہی ہے۔
واضح طور پر وہ اور ''اچھا'' یورپی سامراجی صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اوروہ جلاوطن اور اندرونی اپوزیشن کے حامیوں کی سرپرستی کررہے ہیں جس میں بادشاہت کے حامیوں سے لے کر لبرل اور یہاں تک کہ سابقہ بائیں بازوکے مجاہدین خلق تک شامل ہیں۔ پومپیو اور دیگر امریکی نمائندے بار بار ''حکومت کی تبدیلی'' کی حمایت کررہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایرانی عوام کا غلط استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
وجوہات
تاہم یہ محض ایک جھوٹ ہے کہ عوامی بغاوت کی موجودہ تحریک امریکہ یا دیگر سامراجی یا علاقائی طاقتوں کے ذریعے منظم یا سرپرستی میں شروع کی گی ہے۔ یہ ایک استبدادی رجعتی سرمایہ دارانہ حکومت کے خلاف غریب عوام کا غم و غصہ ہے۔واضح طور پر اس تحریک کی شروعات پٹرول کی سبسڈیوں کے خاتمے کے بعد ہوئی۔ حکومت نے اس اقدام کا اعلان جمعرات 14 نومبر کو کیا اور اگلے ہی دن اس کو نافذ کردیالیکن لوگوں کو قیمتوں میں اضافے کے لئے تیاری کا وقت نہیں ملا۔ پہلے 60 لیٹر کے لئے 50 فیصد اوراس سے زیادہ کے لیے 300 فیصدسے زیادہ اضافہ کردیا گیا۔
پچھلے جمعہ تک ایران میں پٹرول کی قیمت انتہائی کم تھی یعنی تقریبا سات پینس فی لیٹرتھی۔ حکومت اور ایرانی سرمایہ داری کے پاس یہ ایک آخری طریقہ تھا جس کی وجہ سے انہیں معاشی طور پر عوام،مزدور طبقے اور غریبوں کی حمایت حاصل تھی۔ آئی ایم ایف کے مطابق آبادی کا یہی حصہ قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں افراط زر کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا جو آئی ایم ایف کے مطابق اکتوبر 2019 میں پہلے ہی 35.7 فیصد تک جا پہنچا تھا۔ اعدادوشمار کے مرکز برائے ایران، ایس سی آئی نے ایک مایوس کن تشخیص جاری کی ہے جس کے مطابق افراط زر کی مجموعی شرح 47.2فیصد، خوراک اور ایندھن کے لئے 63.5 فیصد اور رہائشی اخراجات کے لئے 82 فیصد تک ہے۔
مہنگائی کی وجہ بالکل واضح ہے۔ یہ ایرانی معیشت کا بحران ہے جس میں امریکی پابندیوں اورتجارتی پابندیوں کے نتیجے میں 2018 کے وسط سے شدت پیدا ہوئی ہے اور جس کے بعد واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں نے بھی ان پابندیوں کی حمایت کردی۔ ورلڈ بینک کے مطابق اس کے بعد سے اب تک معیشت میں تقریبا 8.7 فیصد سکڑ جانے کا تخمینہ ہے۔ جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق یہ کمی 9.5 فیصد ہے۔ تیل کی برآمد میں 80 فیصدکمی اور ریاستی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں پر سبسڈی جو واضح طور پر سماجی بدامنی کو روکنے اور آبادی کے بڑے حصے سے حمایت کاذریعہ تھا یہ ایک ایسی قیمت ہے جو ایرانی حکومت مزید قیمت ادا نہیں کرنا چاہتی ہے اور ممکنہ طور پرنہ ہی اس کی مزید قیمت ادا کرسکتی ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران پیٹرول اور دیگر سامان (اور اس سے منسلک تقسیم کے طریقہ کار) کے لئے سبسڈی پہلے ہی کم کردی گئی ہے بہت دفعہ ایسا آئی ایم ایف کے مطالبات کے نتیجے میں معیشت کی ”تنظیم نو'' کے لیے کیا گیا۔
تجارتی پابندیوں، بائیکاٹ اور پابندیوں کے نتیجے میں فکس سرمایے، مشینری اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ وسیع پیمانے پر متروک ہوگیا ہے مختصر یہ ایک دائمی معاشی بحران کا شکار ہو گیاہے۔ یہ محنت کش طبقہ، غریب، دیہی آبادی اور مظلوم اقوام ہیں جو غربت میں ڈرامائی اضافے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔
ایران نہ صرف ایک تھیوکریٹک آمریت ہے بلکہ ایک سرمایہ دارانہ ملک بھی ہے، جس نے حالیہ دہائیوں کے دوران مزدور قوانین اور معیشت میں ایسی اصلاحات متعارف کروائیں ہیں جس سے سرمایہ دار طبقے کو واضح طور پر فائدہ ہواہے بلکہ متوسط طبقہ کے اہم حصے اور پیٹی بورژوازی نیز ریاست کے اداروں کو فائدہ ہوا ہے۔
ایس سی آئی کے مطابق ستمبر میں سرکاری بے روزگاری 10.5 فیصد تھی۔ تاہم یہ اعداد و شمار بے روزگاری اور جزوی ملازمت کی حقیقتاََ وضاحت نہیں کرتے ہیں کیونکہ ملازمت کی ایک حالیہ تجدید کے مطابق ہر فرد جس نے ہفتے میں ایک گھنٹہ بھی کام کیا اسے بے روزگار نہیں سمجھا جائے گا۔
اس کے باوجود،نوجوانوں میں بے روزگاری 26 فیصد تک ہے۔ اس امر کو دھیان میں رکھتے ہوئے کہ ایران کی 80 ملین آبادی کا نصف حصہ 25 سال سے کم ہے یہ واضح کرتا ہے کہ موجودہ نظام میں نوجوانوں کے لئے حقیقت میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔
مزید برآں، پچھلے 15 سالوں میں حکومت نے مالکان کو بغیر کسی تنخواہ کے تین ماہ کی جانچ مدت کے بعد ملازمین کو برطرف کرنے کا حق دیا ہے، اس قانون کا استعمال نوجوان یا نئے ورکرز کے ساتھ وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پرصنعت اور تجارت کے تقریبا 93 فیصدورکرز عارضی معاہدے پر کام کررہے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک بہت بڑے کچلائے ہوے مزدور طبقے کے ساتھ مزدور طبقے کی اکثریت انتہائی غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔
دیہی علاقوں میں یا مظلوم اقوام سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو اس سے بھی زیادہ شدید استحصال کا سامنا ہے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ یہ نئی بغاوت کا خاص طور پر خوشستان، کرمانشاہ اور فارس جیسے خطوں اورپسماندہ عرب وکرد اقلیتوں والے علاقوں میں سب سے زیادہ مضبوط ہے۔
تحریک کا مستقبل
ملک میں موثر طریقہ سے اطلاعات پر پابندیوں کے پیش نظر اس تحریک کی مزید پیش رفت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ واضح طور پرجس پیمانے اور رفتار سے یہ تحریک پھیلی ہے وہ محنت کش طبقے، کسانوں اور یہاں تک کہ ''درمیانے طبقے'' کے بڑے حصے میں بے حد مایوسی، غصے اور بیگانگی کی عکاسی کرتا ہے۔اس میں ایک اہم وجہ رجعتی حکمرانی کے آمرانہ کردار اور سماجی، معاشی اور نجی زندگی کے ہر شعبے میں اس کے مداخلت ہے۔اس صورتحال میں بدامنی اور معاشرتی غربت کی وجہ سے چلنے والی اس تحریک نے تیزی سے ایک سیاسی کرداراختیار کیا۔

بہت ساری اطلاعات اس بات کا واضح اظہار ہیں کہ مظاہرین حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس بدحالی کو مذہبی اور سرمایہ دارانہ آمریت سے جوڑرہے ہیں یہ مظاہرین کے پُرتشدد اقدامات سے بھی ظاہر ہورہا ہے۔ انہوں نے چھوٹی دکانوں کو لوٹا یا محض ”توڑ پھوڑ“ نہیں کی بلکہ پٹرول اسٹیشنوں، بینکوں اوریاستی عمارتوں اور جابرانہ قوتوں کو نشانہ بنایاہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے حکمران طبقے اور اس کے اداروں کو نشانہ بنایا۔
بلاشبہ اس تحریک کے تیزی سے پھیلاؤ کو سوشل میڈیا کے استعمال سے مدد ملی لیکن یہ واضح طور پر ایک وسیع و عریض خود رو غصے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کو بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بڑھکا دیا ہے۔ اس سے طلباء کے کچھ حصوں اور غیر قانونی یا نیم قانونی شرائط کے تحت کام کرنے والی ٹریڈ یونینسٹوں کے مابین خواہ کمزور ہی کیوں نہ ہوکہ رابطے موجود ہیں۔
اس طرح کے رابطے بغیر کسی شک بہت ہی کمزور اور سیاسی اورواضح حکمت عملی کے فقدان کا شکار ہیں اور یہ حکومت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترداف ہے جس کا مرکزی آپریٹس، قومی میڈیا اورمعیشت پر کنٹرول اور تحریک کو کچلنے کے واضح مقاصدہیں۔ اس کے علاوہ، اس تحریک کی غریبوں اور مزدور طبقہ کے درمیان واضح طور پر مضبوط جڑیں ہیں اور وہ کچھ علاقوں میں ریاستی فوج کے خلاف مزاحمت کرنے میں بھی کامیاب رہی ہے لیکن ابھی تک عام فوجیوں کے ساتھ رابطہ کرنے اور انہیں تحریک کے لیے جیتنے پر ناکام رہی ہے۔
اس کی قومی تنظیم اور سمت کی عدم موجودگی اور حکومت کی مسلح طاقت کی وجہ سے اس کے خون میں ڈوب جانے کا فوری خطرہ لاحق ہے۔ لہذامحنت کش طبقے کی تحریک اور عالمی سطح پر بائیں بازو کو ایران کے مزدوروں اور نوجوانوں کے ساتھ یکجہتی کرنے کی ضرورت ہے۔انہیں ہراس دعوے کی تردید کرنی چاہئے کہ وہ مغربی طاقتوں، اسرائیل یا سعودی عرب کے کٹھ پتلی ہیں۔
اسی کے ساتھ انہیں عوام کے ان جھوٹے، منافق ''دوستوں '' کے خلاف بھی متنبہ کرنا چاہئے۔ انہیں ان کی منافقت، ان کے جبر کومثال کے طور پر سعودی عرب میں خواتین کی، یمن میں عوام کو کچلنے، فلسطینیوں پر ظلم یا امریکی اور یوروپی طاقتوں کی ’پوری دنیا کی لوٹ مار کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں ان کے تکلیفوں کی ایک سیدھی وجہ ہیں اورحالانکہ مغربی بورژوا سیاستدان اس تحریک پر جبر کی مذمت کرتے ہیں، وہ معاشی اور سماجی بدحالی پر خاموش رہتے ہیں۔اس میں تعجب کی بات نہیں کہ آئی ایم ایف نے ایران کے قرضوں اور ملک کی ''تنظیم نو'' کو پورا کرنے کے لئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا جواز پیش کیا تھا۔ واضح طور پر، ہمیں ایران کے اندر لبرل، بادشاہت پسندی یا سامراجی نواز جعلی بائیں بازو کی حزب اختلاف کیخلاف بھی متنبہ کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم ایرانی مزدور طبقہ صرف اس وقت ہی حکومت کو شکست دے سکے گا اور ایسے جھوٹے ''دوستوں '' کے ہاتھوں میں آنے سے بچ سکے گا، اگر وہ سیاسی قوت بناتا ہے اور تحریک کو سیاسی قیادت فراہم کرتا ہے۔
اس کے لئے نہ صرف ٹریڈ یونینوں کی بلکہ بڑے پیمانے پر لڑنے والی تنظیموں کی تشکیل کی بھی ضرورت ہے جو محنت کشوں اور فوجیوں کی کونسلوں کا دفاع کرئے اور محنت کشوں اور نوجوانوں کا ساتھ دئے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست کی اصلاح ممکن نہیں ہے اس کا تختہ الٹ کر انقلاب برپا کرنا ہوگا۔ ایک انقلاب کی ضرورت ہے جو نہ صرف رجعتی آمریت کا خاتمہ کرئے بلکہ سرمایہ دارانہ ذرائع پیدوار اور بڑی جاگیروں کو بھی ضبط کرے نیزریاست کی مشینری کو توڑ تے ہوئے مزدوروں اور کسان حکومت کے ذریعہ اس معیشت کی تنظیم نو کرئے تاکہ اقلیت کے مفاد کی بجائے اکثریت کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک جمہوری منصوبہ تشکیل دئے۔
جیسا کہ سامراجی پابندیوں کے اثرات سے ظاہر ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں ایک محنت کش طبقاتی حکومت بھی صرف ایک ملک میں چیزوں کا رخ نہیں موڑ سکے گی۔ ایرانی انقلاب کو عراق،لبنان کی بڑی تحریکوں اورفلسطین وکرد جدوجہد کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ پورے خطے میں پھیل جائے اور مشرق وسطی کی سوشلسٹ فیڈریشن تشکیل دی جاسکے۔
یہ ممکن ہے کہ رد انقلاب کی قوتیں اور ایرانی ریاست سیاسی طور پر پختہ ہونے سے پہلے ہی اس بغاوت کو کچل دئے۔ ہمیں اس کی روک تھام کے لئے جو کچھ بھی ہوسکے وہ کرنا چاہیے لیکن اگروہ اس میں کامیاب بھی ہوگی تو حالیہ تحریک یہ ظاہر کرچکی ہے کہ ایرانی حکومت پائیدار استحکام کے لئے معاشی اور سماجی بنیادیں پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ مزید وبال کا امکان ہے بلکہ یہ ناگزیرہے۔
گذشتہ 10 سالوں کی ایرانی تحریکوں اور بغاوتوں نے ایک اہم مسئلہ پیش کیا جس کا مشرق وسطی در حقیقت عالمی سطح پر تمام تحریکوں کوسامنا ہے۔ مزدور طبقہ کی قیادت کا بحران یعنی ایک واضح پروگرام اور حکمت عملی کا فقدان ہے جوجمہوری، سماجی اور معاشی مطالبات کو مزدور طبقہ کے اقتدار کی جدوجہد سے جوڑئے۔
کوئی خودرو کی تحریک، کوئی خالصتا ٹریڈ یونین تنظیم، خود ہی اس کیلئے ضروری قیادت تشکیل نہیں دے سکتی۔ سیاسی طور پر انتہائی باشعور اور پرعزم محنت کش طبقے کے لڑاکا حصے، اور دانشوروں کو ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی تشکیل کے مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی پارٹی کو عبوری مطالبات کے پروگرام پر مبنی ہونا چا ہیے، اسے انتہائی جبر کے
کوئی خودرو کی تحریک، کوئی خالصتا ٹریڈ یونین تنظیم، خود ہی اس کیلئے ضروری قیادت تشکیل نہیں دے سکتی۔ سیاسی طور پر انتہائی باشعور اور پرعزم محنت کش طبقے کے لڑاکا حصے، اور دانشوروں کو ایک انقلابی کمیونسٹ پارٹی تشکیل کے مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی پارٹی کو عبوری مطالبات کے پروگرام پر مبنی ہونا چا ہیے، اسے انتہائی جبر کے حالات، غیر قانونی حالات میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی تحریکوں میں مداخلت کے قابل ہونے کی بھی ضرورت ہے جو ابھر کر اور تیزی سے ایک انقلابی کردار اختیار کرسکتا ہے۔ اس طرح کی جماعت کا بننا اپنے پروگرام کو واضح کرنا اور اسے ایک نئی انقلابی پانچویں انٹرنیشنل کی جدوجہد سے جوڑنا ایران اور دیگر ممالک میں ایک ناگزیر ہوچکا ہے۔

Navigation